جاوید احمد غامدی اور مغلوبیت کی مذہبی تشریح: ایک تنقیدی جائزہ (rahim7867)

دنیا میں ایسے "اعتدال پسند" مذہبی مفکرین کی ایک خاص قسم پائی جاتی ہے جنہیں عالمی طاقتیں اور استعمار بے حد پسند کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا انداز انتہائی دھیما ہوتا ہے اور وہ ہر قسم کی مزاحمت سے الرجک ہوتے ہیں۔ مذہبی نصوص پر عبور رکھنے والے یہ دانشور ہمیشہ اس کام کے لیے دستیاب رہتے ہیں کہ وہ مظلوم طبقے کو یہ باور کرائیں کہ ان کی جدوجہد غیر منطقی، وقت سے پہلے، جذباتی، غیر اخلاقی یا انتظامی طور پر کمزور ہے۔

نائن الیون کے بعد کے عرصے میں جاوید احمد غامدی نے اس مخصوص کردار کو نبھانے میں کمال حاصل کیا ہے۔ ان کا کام محض علمی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی فکر کو پروان چڑھا رہے ہیں جو مغلوبیت کو قبول کرنے کی مذہبی توجیہ پیش کرتی ہے۔ وہ مسلسل ایسی دلیلیں تراشتے ہیں جن کا مقصد مظلوموں کے اندر موجود مزاحمتی جذبے کو ٹھنڈا کرنا اور انہیں حالات کے سامنے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔

source

No comments

Powered by Blogger.